28 جون 2026 - 11:58
بحرین اور کویت میں دھماکوں کی آوازیں + ٹرمپ کی شیخیاں!

اخباری ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے جنوب میں کچھ اہداف پر امریکی حملے کے بعد،  بحرین اور کویت میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالمی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ آج (اتوار 28 جون 2026ع‍) صبح سویرے بحرین اور کویت میں دھماکوں کی آوازوں سنائی دی ہیں۔

نیوز چینل پریس ٹی وی کی ویب گاہ نے لکھا کہ جنوبی ایران کے علاقوں پر امریکی حملوں کے بعد بحرین میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے پر مبنی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔

غیر مصدقہ رپورٹوں کے مطابق، ایران پر امریکہ کے حملے کے بعد بحرین میں واقع امریکی ایئر بیس "شیخ عیسیٰ"، ڈرون حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

تھوڑی دیر بعد کویتی فوج نے بھی ایک بیان میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سنائی دینے والی آوازیں اس ملک کی فضائی دفاع کی طرف سے "مخالف اہداف" کو روکنے سے متعلق ہیں۔ [گویا ایرانی میزائل اور ڈرون امریکی مفادات کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ کٹھ پتلی کویتی فوج ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنا رہی ہے!!]

کویتی فوج! نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کویت کا فضائی دفاعی نظام "میزائل اور ڈرون حملوں" کا جواب دے رہی ہے!

تھوڑی دیر بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں اعلان کیا: "سپاہ کی بحری اور ایرواسپیس افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ آپریشن کے دوران آج اتوار 28 جون 2026ع‍ کو، صبح دو سے تین بجے کے درمیان کویت کے علی السالم امریکی اڈے اور بحرین کی بندرگاہ سلمان میں طفل کُش امریکی فوج کے 8 اہم بنیادی فوجی ڈھانچوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے حملے کرکے تباہ کر دیا اور امریکہ کی حالیہ جارحیتوں کا فیصلہ کن جواب دیا۔"

ادھر امریکہ کے پیڈوفائل اور طفل خور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ اس کے ملک کی فوج نے ایران کے اندر اہداف پر حملہ کیا ہے۔

اس نے اپنی شیخیوں اور ڈینگوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے لکھا: ریاستہائے متحدہ کے طیاروں نے ابھی چند لمحے پہلے، جنگ بندی معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کی وجہ سے، ایران کے میزائل اور ڈرون گوداموں کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا!"

واضح رہے ٹرمپ کے دعوے کے برعکس، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور عمومی طور پر پیمان شکنی دہشت گرد امریکی ریاست کا وطیرہ ہے، اس کی وجہ نے ایران کو نشانہ بناکر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور ایرانی افواج کے بیان کے مطابق، امریکی فوج نے کچھ اندھادھند حملے کئے ہیں اور انہوں نے غیر اہم علاقوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایران نے طاقتور اور سنجیدہ کاروائی کرکے ٹرمپی فوج کو جواب دیا۔

ٹرمپ نے 4 مہینوں کی زورآزمائی اور جنگ سے گریز کرنے اور جنگ بندی کی بھیک مانگنے کو گویا مکمل طور پر بھلا دیا ہے اور پھر بھی لاف زنی کا سہارا لے کر اپنے پیغام میں لکھا ہے: "ہو سکتا ہے کہ وقت آئے جب ہم منطقی طور پر کام نہ کر سکیں اور مجبور ہوں کہ جو بہت کامیاب کام ہم نے شروع کیا تھا، اسے فوجی ذرائع سے مکمل کریں۔"

امریکہ جنگ میں شکست کھاگیا اور پاکستانی حکومت کو مجبور کرکے جنگ بندی کے لئے بیچ میں ڈال دیا اور جنگ بندی میں خودہی، یکطرفہ طور پر توسیع کر دی۔ اور اب نادان اور غنودگی میں مبتلا امریکی صدر اپنی ناکام مشن کو کامیاب کام کا نام دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے پھر بھی لاف زنی کرتے ہوئے دعویٰ کیا: "اگر ایسا ہوتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔" حالانکہ اس نے جنگ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کے لئے شروع کی تھی لیکن آخرکار آبنائے ہرمز کھلوانے کے مطالبے پر رک گیا، جو جنگ سے پہلے کھلا تھا۔

امریکی فوج کے ایران کے اندر حملے اس وقت کیے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں ناکامی پر ملک کے اندر مختلف سیاسی دھڑوں ـ حتیٰ کہ اس کے کل کے حامیوں ـ کی طرف سے شدید اور جارحانہ تنقید کا سامنا ہے۔

حتیٰ کہ گذشتہ دنوں کانگریس میں ٹرمپ کے مزید ساتھیوں نے ایران میں اس کی ناکام جنگ کی مخالفت میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا ہے اور اس کی جنگی اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے مطابق، امریکہ اور ایران کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور ارضی سالمیت کا احترام کرنا پڑے گا اور کسی بھی جنگی کاروائی اور دھمکی سے پرہیز کرنا پڑے گا لیکن پیڈوفائل ٹرمپ نے پہلے ہی دن سے اس اصول کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

بحرین اور کویت میں دھماکوں کی آوازیں + ٹرمپ کی شیخیاں!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha